ٹرمپ نے فیس بک‘ٹوئٹر‘گوگل اور یوٹیوب کے خلاف فیڈرل کورٹ میں مقدمہ دائرکردیا
سوشل میڈیا کمپنیوں کے اقدامات سیاسی نوعیت کے ہیں‘چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر حملے کی تحقیقات کرنے والی امریکی پارلمیان کی مشترکہ کمیٹی کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں‘ اسلام پر حملوں کو تو اہل مغرب آزادی اظہار کہہ کر بات ختم کردیتے ہیں مگر امریکا کا سابق صدر انصاف کے لیے عدالتوں میں جارہا ہے مگر ”آزادیوں“کے نام نہاد علم بردار خاموش ہیں.گروپ ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“میاں محمد
-ندیم کا خصوصی تجزیہسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی تین بڑی ٹیک کمپنیوں کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے
جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں اور دوسرے ساتھیوں کو غلط طور پر سینسرشپ کا ہدف بنایا گیا ہے ٹرمپ نے فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل کے وڈیو پلیٹ فارم یوٹیوب اور ان کے سربراہوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان ریاست نیو جرسی میں ایک پریس کانفرنس میں کیا.
ریاست فلوریڈا کے شہرمیامی کی فیڈرل کورٹ میں دائر کیے
جانے والے اس مقدمے میں ان کے ساتھ دوسرے پٹیشنرز بھی شریک ہیں سابق صدر نے کہا کہ ہم غیر اعلانیہ اور جزوی سینسر، خاموش کیے جانے، بلیک لسٹ کرنے اور ہمارے مواد کو ہٹائے جانے کی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں ابلاغ میں شائستگی کے قانون مجریہ 1996 کی دفعہ 230 کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنی سروسز کو متعدل بنانے کے لیے ایسے شائع شدہ مواد کو اچھی نیت سے ہٹانے کی اجازت ہے جن میں سروسز کے معیار اور قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہو یہ قانون عمومی طور پر انٹرنیٹ کمپینوں کو ان کے صارفین کی جانب سے شائع کیے جانے والے مواد کی ذمہ داری سے استثنیٰ دیتا ہے.
سابق صدر ٹرمپ اور کچھ دوسرے سیاست دان طویل عرصے سے ٹوئٹر
، فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر یہ اعتراض اٹھاتے رہے ہیں کہ انہوں نے مواد کی اشاعت سے متعلق تحفظ فراہم کرنے والے اس قانون کا غلط استعمال کیا ہے اور ان سے یہ تحفظ واپس لیا جانا چاہئے یا انہیں حکومت کی طے کردہ شرائط کو پورا کرنا چاہئیے. ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب نے 6 جنوری کو کانگریس کی عمارت پر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے ہلہ بولے جانے کے بعد ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ کی پوسٹس کی اشاعت روک دی تھی کہ اس سے تشدد کو مزید ہوا مل سکتی ہے امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ٹرمپ 2020 کے صدارتی انتخاب کے متعلق مسلسل یہ دعوے کرتے رہے کہ وہ جیت چکے ہیں جب کہ ریاستی حکام، مقامی انتخابی عہدے داروں، ان کے اپنے اٹارنی جنرل اور بہت سے ججز نے جن میں ان کے اپنے تعینات کردہ کچھ جج شامل ہیں، یہ کہا کہ بڑے پیمانے پر ووٹنگ میں فراڈ اور جعل سازی کا کوئی ثبوت نہیں ہے.
فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر نے اس بارے میں اپنا ردعمل دینے سے انکار کر دیا ہے
ٹرمپ اور دیگر پٹیشنرز کی جانب سے دائر کیے جانے والے دعوے میں کہا گیا ہے کہ ان پلیٹ فارمز پر ان پر پابندی یا ان کی اشاعت معطل کیے جانے سے پہلی آئینی ترمیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اگرچہ یہ کمپنیاں پرائیویٹ ہیں. دعوے میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ انہیں پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے جس کا تعین نہیں کیا گیا اور سیکشن 230 کو غیر قانونی قرار دے کر ٹرمپ اور دیگر پٹیشنرز کے اکاﺅنٹ بحال کیے جائیں کمپیوٹر اینڈ کمیونیکیشنز انڈسٹری ایسوسی ایشن جس میں فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل بھی شامل ہیں کے صدر میٹ شوئرز کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ کمپینوں کو اپنی سروسز کے قواعد کا اطلاق کرنے کا اختیار حاصل ہے.
اس سلسلہ میں صحافت اور آزادی اظہار کے موضوع پر کتابوں کے مصنف اور
اردو پوائنٹ “کے گروپ ایڈیٹر میاں محمد ندیم کا کہناہے کہ ٹرمپ سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف اپنی جگہ مگر سوشل میڈیا کی چند کمپنیاں جن کا دائرہ اس قدروسیع ہوچکا ہے کہ وہ عالمی رائے عامہ پر اثراندازہوتی ہیں انہیں اختیار دیا جاسکتا ہے کہ وہ جب چاہیں کسی کا اکاﺅنٹ بھی معطل یا مکمل طور پربند کردیں؟انہوں نے کہا کہ یہ امریکا کے اجارہ داری قوانین اور شہری آزادیوں کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سیاسی نوعیت کے ہیں.
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ملک کے صدر رہے ہیں
اور ان کے عہد صدارت کے دوران کئی بار ان کے اکاﺅنٹس معطل کیئے گئے صدر بائیڈن کے حلف اٹھانے کے بعد ان کے اکاﺅنٹس کو مکمل طور پر بند کردیا گیایہ درست ہے کہ ٹرمپ غیرذمہ درانہ بیانات کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر حملے کی تحقیقات کرنے والی امریکی پارلمیان کی مشترکہ کمیٹی کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں اصولی طور پر سوشل میڈیا کمپنیوں کو پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے تھا انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ کمپنیاں امریکی اور بین القوامی قوانین سے بالاتر ہیں؟.
میاں ندیم نے کہا کہ انتخابات میں الزام تراشیاں معمول کی باتیں ہیں
اگر یہ کمپنیاں نام نہاد اصول پسندی کی بات کرتی ہیں تو انہوں نے انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کے اشتہار کیوں چلائے جبکہ پوری دنیا جانتی تھی کہ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ ہی امیدوار ہونگے انہوں نے کہا کہ غیرمحسوس طریقے سے یہ کمپنیاں اور کچھ میڈیا ہاﺅسزخود کو ہرقانون سے بالاترسمجھتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے.
انہوں نے کہا کہ تیسری دنیا کے ممالک میں بھی امریکا اور مغرب کی پیش کردہ
آزادی اظہار کی تعریف کو پڑھایا جاتا ہے مگر عملی طور پر ہمیں وہ آزادی اظہار نظرنہیں آتی انہوں نے کہا کہ اسلام پر حملوں کو تو اہل مغرب آزادی اظہار کہہ کر بات ختم کردیتے ہیں مگر امریکا کا سابق صدر انصاف کے لیے عدالتوں میں جارہا ہے اس پر اہل مغرب کو آزادی اظہار یاد آتا ہے نہ بنیادی انسانی حقوق مگر ڈیڑھ اراب سے زیادہ مسلمانوں پر شرمناک ‘کھلے تعصب پر مبنی حملوں کو یہ آزادی اظہار کہہ کر ٹال دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ آزادی اظہار نہیں بلکہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کا ارتکاب مغرب کی جانب سے کیا جاتا ہے.

Post a Comment